محفل میں جائیے گا، ذرا احتیاط سے
نظریں ملائیے گا، ذرا احتیاط سے
چنگاریوں کو یوں نہ ہوا دیجیے، حضور
شعلہ بھڑک اٹھے گا، ذرا احتیاط سے
ایسا نہیں کہ خار سے ہی کیجیے اجتناب
ہاں گُل بھی زخم دے گا ، ذرا احتیاط سے
وہ شخص آئینہ تو نہیں، پر ہے حق شناس
سچ بات وہ کہے گا، ذرا احتیاط سے
لفظوں کے تیر زخم بھی دیتے ہیں عمر بھر
لب کو ہلائیے گا، ذرا احتیاط سے
اپنوں سے غم ملے ہیں محبت کی راہ میں
دل کو لگائیے گا، ذرا احتیاط سے
ہر شخص اعتبار کے قابل نہیں ہوتا
اپنا بنائیے گا، ذرا احتیاط سے
ہر موڑ پر کھڑے ہیں کئی راہ زن یہاں
رستہ بتائیے گا، ذرا احتیاط سے
جتنا پلاؤ دودھ سپولے کو، اے کنول!
وہ ڈس کے ہی رہے گا، ذرا احتیاط سے

0
2