سجدہ شوق جب ادا نہ ہوا
وہ مرے درد کی دوا نہ ہوا
اسے آتا تھا عشق کرنا مگر
وہ پھر بھی با وفا نہ ہوا
چھوڑ کر چل دیا وہ کب کا مجھے
ہاں مگر دل سے وہ جدا نہ ہوا
سوچا تھا عشق پھر سے سیکھیں گے
مگر دل یہ کبھی فدا نہ ہوا
مری تنہا سی زندگی ہے اب
پیڑ سوکھا یہ پھر ہرا نہ ہوا
شاہد اویس سومرو

2
81
سومرو صاحب آپ نے لکھا ہے براے اصلاح تو گزاش کر رہا ہوں
سب سے پہلے تو اس کا وزن اور روانی درست کریں - مضمون کی بات بعد میں ہو گی
ایک ممکنہ وزن اور روانی یہ ہے

سجدۓ شوق جب ادا نہ ہوا
وہ مرے درد کی دوا نہ ہوا
اس کو آتا ہے عشق کرنا اگر
کیوں مگر پھر وہ با وفا نہ ہوا
چھوڑ کر چل دیا وہ کب کا مجھے
ہاں مگر دل سے وہ جدا نہ ہوا
عشق سوچا تھا پھر سے سیکھیں گے
دل مگر پھر کبھی فدا نہ ہوا
اب ہے تنہا سی زندگی میری
پیڑ سوکھا جو' پھر ہرا نہ ہوا



شکریہ

0