| اہلِ زر کا نہیں یہ گھر، یہ ہمارا دل ہے |
| مست و مجنون و قلندر، یہ ہمارا دل ہے |
| ماں کے قدموں سے رہا کرتا ہے یہ چمٹا ہوا |
| جس کو کچھ خوف ہے نہ ڈر، یہ ہمارا دل ہے |
| اپنے بابا کی حمایت اسے حاصل ہے تبھی |
| بڑا بے خوف ہے نیڈر، یہ ہمارا دل ہے |
| عام سا، سادہ سا ہے، نرم ہے، انمول نہیں |
| نہ ہی ہیرا نہ ہی پتھر، یہ ہمارا دل ہے |
| یوں تو چھوٹا ہے مگر خود میں عجائب گھر ہے |
| خود ہمیں کو کرے ششدر، یہ ہمارا دل ہے |
| جس نے تڑپایا، رلایا ہے، ستایا ہے، اِسے |
| مر مٹا ہے یہ اُسی پر، یہ ہمارا دل ہے |
| اِس کی ہر ٹیس بھری آہ میں آرام بھی ہے |
| ایک آرام دہ نشتر، یہ ہمارا دل ہے[ |
| عقلِ عالم کے پکڑ سے ہے جو یکسر باہر |
| لِیے پھرتا اسے اندر، یہ ہمارا دل ہے |
| خود کو جو ڈھونڈ نے ہم نکلے تو اس تک پہنچے |
| ذات کا مرکز و محور، یہ ہمارا دل ہے |
| ارض سے آسماں اور ان سے بھی بالا سِدرہ |
| اور پھر اس سے بھی اوپر، یہ ہمارا دل ہے |
| کوئی تو ہے جو چھپا بیٹھا ہے اِس کے اندر |
| ہاں اُسی ذات کا عنصر، یہ ہمارا دل ہے |
| شاہکار اس کو بتاتا ہے یہ فنکار اس کا |
| اسی فن کار کا اظہر، یہ ہمارا دل ہے |
| اِس کے پردے میں عیاں ہے جو چھپا ہے سب سے |
| اے ذکیؔ، اللہ ہو اکبر، یہ ہمارا دل ہے |
معلومات