زندگی ناقدرئی حالات کی ماری رہی
کور فہموں سے ہراساں عقل بیچاری رہی
ہر قدم رکھنے سے پہلے دیکھ لیتا ہوں زمیں
خوفِ لغزش کے سبب کچھ سست رفتاری رہی
حق کی خاطر جو اٹھایا میں نے حرفِ احتجاج
خامشی اہلِ خرد کی بھی بہت بھاری رہی
نقش بر دیوار تھی دنیا مری تحریر پر
فکر تو رکھتی تھی لیکن فہم سے عاری رہی
آگہی نے ہر قدم پر مجھ کو تنہا کر دیا
دل کی دنیا میں مگر آباد خودداری رہی

4