انقلابی ہے جگر اور مرا تیور مضبوط
سوچ میں پنہاں ہے اخلاص کا عنصر مضبوط
ٹھوکروں نے ہی سکھایا ہے سنبھل کر چلنا
میرے اندر ہے چھپا عزم کا لشکر مضبوط
جس کی منزل پہ نظر ہو وہ کہاں رکتا ہے
چاہے رستے میں پڑے کتنے ہی پتھر مضبوط
لاکھ حالات نے چاہا کہ جھکاؤں گردن
پھر بھی قائم رہا کردار کا پیکر مضبوط
ظاہراً میری شباہت بھلے کمزور سہی
حوصلہ میرا ہے فولاد سے بڑھ کر مضبوط
دھوپ سے وقت کی کمزور نہیں ہوتا شجر
شرط یہ ہے کہ ہو ایمان کا جوہر مضبوط
وہ شکستوں سے کبھی ہار نہیں مانتا ہے
جس کے سینے میں رواں جوشِ سمندر مضبوط
چال دشمن کی اسے پست نہیں کر سکتی
جس کے ہاتھوں میں ہو امید کا خنجر مضبوط
سوزِ ملت سے کنولؔ آج ہے دلگیر بہت
کاش قوموں کو میسر بھی ہو رہبر مضبوط
بحر: رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن مفعول

0
2