حَسَن کو مُبارک، مُبارک ہماری
ہے کندھوں پہ تیرے بڑی ذِمّہ داری
کھِلائے گُلِستاں میں گُل پیارے پیارے
بَصارت تُمھاری، بصیرت تُمھاری
لبوں سے جَھڑیں پھُول نرم اور نازُک
ہمیشہ رہے مُسکراہٹ بھی جاری
بنیں کاش الفاظ تاثِیر کے تِیر
اَثَر جِن کا ہر آن دِل پر ہو طاری
جو ناراض ہیں جلد ہُوں گے وہ راضی
محبّت کی اُن کو لگے ضربِ کاری
بَیاں کر سکے ہر کوئی نُقطہ اپنا
ہو دامن میں وُسعَت مِثالی تُمھاری
مِلیں برکَتیں تُم کو مُرشِد کی ہر دَم
جِنھوں نے ہے زیرکؔ کی قسمت سنواری

0
5