وسعتیں لاکھ چشمِ تر کے لیے
اور دیوار ہے نظر کے لیے
کچھ مکمل نہیں ہے آنکھوں میں
ایک خاکہ سا عمر بھر کے لیے!
گھر کے سامان میں تھے نقص بہت
یاد باندھی گئی سفر کے لیے!
بھاگتا ہوں جمود سے میں اور
لوگ ہلکان اس ہنر کے لیے
چار دیواری، چارہ سازی نہیں
چند افراد تو ہوں گھر کے لیے

0
3