| تضمین:- اِنبِیا کو بھی اَجَل آنی ہے |
| ------------------------------------ |
| کلام:- حسَّان الھند الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز |
| ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ |
| زندگی کیا ہے؟ چلی جانی ہے |
| موت نے کب کسی کی مانی ہے |
| پر کسی نے یہ فَقَط پانی ہے |
| اِنبِیا کو بھی اَجَل آنی ہے |
| مگر ایسی کہ فَقَط آنی ہے |
| زندگی کو رہے گا خاص ثَبَات |
| پھر کبھی پاس رہے گی نہ مَمَات |
| بس زَمانے کے دکھوں سے ہو نَجَات |
| پھر اُسی آن کے بعد اُن کی حَیات |
| مثلِ سابِق وُہی جِسمانی ہے |
| زندگی پر رہا قَبْضَہ اُن کا |
| کب ہو لَمْحَہ کوئی مُرْدَہ اُن کا |
| موت کَب ہو سکے پھندہ اُن کا |
| روح تو سب کی ہے زِندہ اُن کا |
| جِسْمِ پُر نور بھی رُوحانی ہے |
| جانے کیا شان کوئی نَفْسِ کّثِیف |
| سمجھے ہیں یہ تو انہیں خود سا نَحِیف |
| کل جہاں سامنے ان کے ہے خَفِیف |
| اوروں کی روح ہو کتنی ہی لَطِیف |
| ان کے اَجْسام کی کب ثانی ہے |
| پاس جس حَجْر کے گُزریں وہ بھی |
| پاس جب غار کے جائیں وہ بھی |
| جب شَجَر کو وہ بُلائیں وہ بھی |
| پاؤں جس خاک پہ رکھ دیں وہ بھی |
| روح ہے ، پاک ہے ، نورانی ہے |
| دیتے ہیں قَبْر سے بھی وہ تو فَلاح |
| آتے ہیں لوگ وہاں شام و صَباح |
| مُرْدَہ کہنا بھی انہیں کب ہے مُباح |
| اس کی اَزْواج کو جائِز ہے نِکاح |
| اسکا تَرْکہ بٹے جو فانی ہے |
| زِندگی ہو بھلی رضوی کی سَدا |
| زندگی بھر وہ کرے ان کی ثَنا |
| وہ نہیں زندہ جو ہیں ان سے جُدا |
| یہ ہیں حیِّ اِبَدی ان کو رضا |
| صِدْقِ وعدہ کی قَضَا مانی ہے |
| ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ |
| تضمین نگار:- ابو الحسنین محمد فضلِ رسول قادری چشتی رضوی ، کراچی |
| 20 ربیع الاول شریف 1448 ھ |
| / 3 ستمبر 2026 ء |
| دن2 بج کر پچاس منٹ |
| نمازِ ظہر کے بعد پونے دو گھنٹوں میں یہ تضمین مکمل ہوئی فلِلّٰہِ الحمد و الصلوة على رسوله الاكرم |
معلومات