ہر اک فَریبِ نفس کا انکار کیجیے
دل کو خدا کی یاد سے سَرشار کیجیے
دنیا کی بھیڑ میں کبھی بھولیں نہ آخرت
عُقبیٰ کا توشہ آج ہی تیار کیجیے
اِن فانی لَذَّتوں کو پَسِ پُشت ڈال کر
سجدوں میں گر کے رب سے ہی بس پیار کیجیے
خلقِ خدا سے عدل و وفا کرکے آپ بھی
جنت کا راستہ ذرا ہموار کیجیے
اندھیری قبر میں تو اترنا ضرور ہے
مٹی کے اُس مکاں کا بھی دیدار کیجیے
مَحشر کی ہول ناکی ذرا سوچ کر کبھی
دامن کو اب گناہوں سے بے زار کیجیے
کتنی ہے خوفناک جہنم کی آگ وہ
اُس کی تپش سے خود کو خبردار کیجیے
رازِ نجات مَخفِی مُنَوَّر اِسی میں ہے
دل کو نبی ﷺ کے عشق سے بیدار کیجیے

0
10