| حجاب رخ سے اٹھاؤ جاناں ،میں چاند چہرے کی دید کر لوں |
| قریب آکر ، نظر ملا کر ، گلے لگا لو میں عید کر لوں |
| گلابی شیریں لبوں سے ساقی شرابی لذت کشید کر لوں |
| جو تجھ کو چھو کر نشہ ہوا ہے ، اضافہ اس میں مزید کر لوں |
| جفائیں کب تک کرے گا مجھ سے، رقیب سے یوں ملے گا کب تک |
| بٹھا کے دونوں کو روبرو اب ، میں حتمی گفت و شنید کر لوں |
| ملن کا وعدہ ہوا پرانا ، رہوں گا کب تک میں منتظر یوں |
| کہیں وہ ظالم ملے تو اس سے میں عہد و پیماں جدید کر لوں |
| میں ہجر کیسے سہوں اب اس کا ، جو روٹھ بیٹھا خطائیں کر کے |
| سحاب اُس کو منا لوں خود ہی ، یا خود کو اُس سے بعید کر لوں |
معلومات