| شراب مست ہے ، مخمور جام ہو گیا ہے |
| نصیح رندوں کا جب سے امام ہو گیا ہے |
| ترا بدن بھی دھواں ہو گیا تو حیرت کیا |
| یہ معجزہ تو محبت میں عام ہو گیا ہے |
| نسیمِ صبح نے زُلفوں سے چھیڑ خانی کی |
| نصیب گُل کو ترا ابتسام ہو گیا ہے |
| نظر کے ساتھ روانہ کیا ہے دل میں نے |
| اکیلی آئی تو سمجھوں گا کام ہو گیا ہے |
| بس انتظار ہے پیکِ اجل کے آنے کا |
| تمہیں بھلانے کا سب انتظام ہو گیا ہے |
| سنا رہا ہے وہ اشعار میرے لوگوں کو |
| بلند میرے سخن کا مقام ہو گیا ہے |
| جو بات کہہ دی قمرنے وہ مستند ٹھہری |
| جو شعر لکھ دیا اس نے کلام ہو گیا ہے |
| قمرآسیؔ |
معلومات