کرسی کے خواب آتے ہیں بس تکنے آپ کو
آتے ہیں جھوٹے وعدے ہی بس رٹنے آپ کو
مہنگائی کا عذاب سہیں ہم عوام بس
مر جائیں دو گھڑی جو پڑیں سہنے آپ کو
کھا کر حرام مال ہے کاٹی تمام عمر
نکلیں گے سانپ قبر میں سے ڈسنے آپ کو
تعریف میں حریف کے گر بولنا پڑے
آتے مغلظات ہیں بس بکنے آپ کو
تیرے سخن سحاب سبھی آئینہ نما
پڑھتا ہے جو بھی دیکھتا ہے اپنے آپ کو

0
5