| ہر طرف ہے خزاں کی ویرانی |
| اور دل میں گماں کی سنگینی |
| پھر اسی طرح عمر جاتی رہی |
| پھر وہی آشیاں کی سنگینی |
| ہر بشر کے گلے سڑے پیمان |
| گر ہیں کچھ تو زباں کی سنگینی |
| دل پہ ہاں وحشتیں مسلط ہیں |
| خوب ہے آسماں کی سنگینی |
| ایک ناؤ جو خود میں ڈوب گئی |
| اور سبب بادباں کی سنگینی |
| جب میں سمجھا یہ ماجرا سارا |
| لے گئی تھی زیاں کی سنگینی |
| اب تو شاعر سمجھ چکا ہے یہ |
| کیا بلا ہے گماں کی سنگینی |
معلومات