لمحاتِ زندگی میں تسلسل نہیں رہا
اور مختصر یہ دل مرا گھائل نہیں رہا
سُر جس کے نام کے مرا دل جاپتا رہا
وہ شخص اب حیات کا حاصل نہیں رہا
اتنے بھی امتحاں نہ لے اے زندگی مری
میں سب لٹا کے ضبط کے قابل نہیں رہا
ناداں تھا میں جو لذتِ الفت کے شوق میں
اب میں تمہارے پیار میں پاگل نہیں رہا
تسبیح ایسے پھیرتا ہوں اپنے ہاتھ میں
جیسے مرا خدا پہ توکل نہیں رہا
ساگر میں ریگ زار کے موسم میں ڈھل گیا
پھر سے برس پڑوں میں وہ بادل نہیں رہا

0
1