| حَریمِ ناز کے پردے اُٹھائے جاتے ہیں |
| زَہے نصیب کہ ہم بھی بُلائے جاتے ہیں |
| کتاب عشق میں لکھا ہے حُسن والوں نے |
| نگاہِ شوق کو جلوے دِکھائے جاتے ہیں |
| وہ کہہ رہے ہیں کہ رہنا ذرا سنبھل کر تم |
| حجاب تیری نظر سے ہٹائے جاتے ہیں |
| کہیں یہ چوم نہ لے حُسنِ جاوِدانی کو |
| مِری نگاہ پہ پہرے لگائے جاتے ہیں |
| اے بے نیاز تِرے نازِ بے نیازی پر |
| نیاز مند سَروں کو کٹائے جاتے ہیں |
| نہیں یہ طور نہیں ہے دِیارِ کربل ہے |
| حُسینؑ لَخت جِگر کے لُٹائے جاتے ہیں |
| سُنا کے ذکر خُدا کا کہا گیا مُجھ سے |
| کہ غم زمانے کے یونہی بُھلائے جاتے ہیں |
| یہ کہہ کے ڈالا ہے مُجھ کو عشق آتش میں |
| کہ خام ایسے ہی کُندن بنائے جاتے ہیں |
| وہ رَگ و پَے میں تمہارے سمائے جاتے ہیں |
| غلام تُجھ کو وہ اپنا بنائے جاتے ہیں |
معلومات