بے وسیلہ زات بے آئینہ چہرہ دیکھتے
یہ تمنا ہی رہی ہم خواب اپنا دیکھتے
ہم نے بالآخر بسا لی زات کی دنیا الگ
ہے تماشا یہ جہاں کب تک تماشا دیکھتے
کیا خبر کیا صورتِ احوال ہے اطراف میں
اپنے چہرے سے نظر ہٹتی تو دنیا دیکھتے
موندنی ہی پڑ گئیں جب تھک گئیں آنکھیں بہت
سو مناظر ایک پس ِمنظر میں کتنا دیکھتے
ایک ذرہ دیکھ کر ہی محو حیرت رہ گئے
ایک ذرے کو نہ سمجھا خاک صحرا دیکھتے
کعبہ دل میں ہی خُدا جب مل گیا ہم کو تو پھر
کیوں کسی مندر میں جاتے کیوں کلیسا دیکھتے

0
5