| ابتدا عشق کی، پھر ہوتی ہے، انجام کے بعد |
| "حوصلہ اور بڑھے، کوششِ ناکام کے بعد" |
| لائقِ دید ہیں، مدہوش کے، چشمانِ مست |
| ساقیا اور پلا، جام، ہر اک جام کے بعد |
| موند لی، آنکھیں جو دیکھا، ترے جلوے کا جمال |
| صبح آئی ہی نہیں، پھر کبھی، اُس شام کے بعد |
| میکشی میں ہی سہی، جُڑ تو گیا، نام سے نام |
| رند مشہور ہوا ہے، اِسی الزام کے بعد |
| آئنہ دیکھ کے، چکرا گیا، میکش کا دماغ |
| شائد ہوش آیا ہے، اس کو، کئی ایّام کے بعد |
| کر دیا ہے، مری رندی نے، مرا کام تمام |
| کوئی اب کام، نہیں باقی ہے، اِس کام کے بعد |
| مجھ کو، ساقی نے، پِلایا ہے ذکیؔ، آخری جام |
| نام آتا نہیں، کوئی بھی، مرے نام کے بعد |
معلومات