نہ سمجھو تم مِری چاہت ذرا سی بھی ادھوری ہے
مجھے ہے یہ یقیں اس کی محبت مجھ سے پوری ہے
دلوں کے درمیاں جب قربتیں ہر لمحہ قائم ہیں
گلہ کیوں ہو اگر رستوں میں حائل اب یہ دوری ہے
بیانِ حالِ دل تو ہو چکا چشمِ تمنا سے
زباں سے اب قسم کھانا بھلا کیسے ضروری ہے؟
اگر وہ روبرو بزمِ وفا میں آ نہیں سکتا
خیالوں میں مرے ہر وقت حاصل وہ حضوری ہے
خرد والوں کے فتووں کی ہمیں پروا نہیں کوئی
ہماری عاشقی اک مستقل رشتہ شعوری ہے
تِری چاہت کا ہر لمحہ مجھے سرمست رکھتا ہے
دل و جاں پر جو طاری ہے وہ کیفِ جاں سُروری ہے
بکھر کر بھی نہ شکوہ لب پہ لائے ہم کبھی صاحب
سکھایا ہے محبت نے ہمیں جو، وہ صبوری ہے

0
3