ہم سے گویائی میں تُم ہِچکِچانے لگے ہو
دُوری مَط٘لَب کہ یُوں ہم سے بَڑ٘ھانے لگے ہو
زِن٘دَگی بھر تری خاطِر ، بَھ٘ٹَکتے رہے ہم
اور سَپ٘نے تُم اوروں کے سَجانے لگے ہو
خُوش تھے اُن کے سِوا میں نے نہ چَاہا کِسی کو
خُوب چاہَت کی جو یُوں اب سَتانے لگے ہو
خَواب دیرِینَہ و کُچھ یَاد سُوہَانَا دِلاّ
مَست فَن کارِ جَفا یُوں رُلَانے لگے ہو
چھوڑی ناں کَسَر ہِی بَرباد کرنے کی مُجھے
ایسے کیسے بھلا مُجھ کو مِٹانے لگے ہو
بتلا حال اپنا رہا یَاں پہ کِن بے حِسوں کو
حال اپنے پہ ہی افسوس کھانے لگے ہو
دِل سے جو اب تھے نِکَالے سزَاوار سبھی
اُنہی کو پھر کِیُو دِل میں بَسانے لگے ہو
بے مُروت کا گِلہ ، شِکوہ کِس سے کرُوں میں
اوروں سنگ اپنے بھی جب آزمانے لگے ہوں
حال میرا تو ہے لائِق بہانے کے سَرِشْک
لذتِ قِصّہ نہ جیسے سُنانے لگے ہو
آہ ڈھایا تُو نے ظَالِم یہ مُجھ پر ہے سِتم
خاکِ ذِلَّت لے جا بِسمِلؔ بَسانے لگے ہو

0
22