شعر کہنے کو میں عنوان کہاں سے لاؤں
اب خیالوں میں بھلا جان کہاں سے لاؤں
وہ گلابوں کی نہیں باغ کی شوقیں ہے میاں
نت نئے روز یہ گلدان کہاں سے لاؤں
کچھ عجب میری کہانی ہے فسانے کے بغیر
کوئی کامل میں قلمدان کہاں سے لاؤں
جو مرے خواب کی زینت ہے حقیقت کی نہیں
ڈھونڈ کر ایسا میں انسان کہاں سے لاؤں
خط اسے چاہیے انجیلِ مقدس کی طرح
اب محبت کے میں قرآن کہاں سے لاؤں
وہ کہے اور میں چپ چاپ سنے جاؤں اسے
اب برہمن کوئی بھگوان کہاں سے لاؤں
اک طرف عشق تو اک اور زمانے کی ہوا
دورِ حاضر میں یہ نقصان کہاں سے لاؤں
وہ جسے شوق نہ ہو کوئی خدا ہونے کا
اس زمانے میں وہ انسان کہاں سے لاؤں
میں اسے جان کا ساگر کوئی دوں نظرانہ
سینے میں جذبۂ طوفان کہاں سے لاؤں

3