| چہرہ تو مسکرا رہا، اندر تھکان ہے |
| محفل میں ہنس رہا ہے مگر نیم جان ہے |
| دن بھر کی دوڑ دھوپ نے ایسا نچوڑا ہے |
| ہر آدمی کے ہاتھ میں بس امتحان ہے |
| لہجے بدل بدل سے ہیں دیکھے جہان میں |
| موسم کی اونچ نیچ میں اک داستان ہے |
| رشتوں کے بیچ آج عجب فاصلے ہوئے |
| اپنا ہی آدمی کبھی لگتا گمان ہے |
| سچ بولنے پہ لوگ خفا ہونے لگ گئے |
| جیسے یہ باطلاں کا کوئی ترجمان ہے |
| ارشدؔ یہ زندگی بھی عجب اک کتاب ہے |
| ہر صفحہ کھول دیکھیے اک داستان ہے |
| مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی |
معلومات