محبوبۂ حضور ہیں جو عائشہ ہیں وہ
صدیق کا بھی نور ہیں جو عائشہ ہیں وہ
صدیقہ طیبہ ہیں عفیفہ ہیں طاہرہ
ہر عیب سے ہی دور ہیں جو عائشہ ہیں وہ
جبریل پاک کہتے ہیں آ کر انہیں سلام
مقبولِ در شکور ہیں جو عائشہ ہیں وہ
پوچھا احبِّ ناس کا تو عائشہ کہا
سرکار کا سرور ہیں جو عائشہ ہیں وہ
وہ عالمہ وہ مفتیہ اور عمدہ شاعرہ
ہاں علم سے وفور ہیں جو عائشہ ہیں وہ
مسطور ہے کتاب میں تنزیہ عائشہ
سن حورِ بے قصور ہیں جو عائشہ ہیں وہ
سب غافلوں کو چھوڑ تو بس جان لے جلالؔ
چشمِ نبی کا نور ہیں جو عائشہ ہیں وہ

0
1