تضمین نمبر 1
تضمین:-سب سے اولی و اعلی ہمارا نبی
کلام حسان الھند اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز
-----------------------------------
---------------------------
عرش والوں کا نعرہ ہمارا نبی
فرش والوں میں غوغا ہمارا نبی
ہر کوئی ہے یہ کہتا ہمارا نبی
سب سے اولٰی و اعلٰی ہمارا نبی
سب سے بالا و والا ہمارا نبی
رب کی مرضی کا جلوہ ہمارا نبی
سب کی عرضوں کو سنتا ہمارا نبی
دل کے رشتوں میں یکتا ہمارا نبی
سب سے اولٰی و اعلٰی ہمارا نبی
سب سے بالا و والا ہمارا نبی
شانِ رحمت کا جلوہ ہمارا نبی
فیضِ نعمت میں یکتا ہمارا نبی
عرشِ رفعت پہ جچتا ہمارا نبی
سب سے اولٰی و اعلٰی ہمارا نبی
سب سے بالا و والا ہمارا نبی
سب سے اجلٰی و اضٰحی ہمارا نبی
سب سے ازکٰی و اصفٰی ہمارا نبی
سب سے اتقٰی و انقٰی ہمارا نبی
سب سے اولٰی و اعلٰی ہمارا نبی
سب سے بالا و والا ہمارا نبی
سارے جگ سے نرالا ہمارا نبی
ہر کسی کا سہارا ہمارا نبی
ہر نبی نے پکارا ہمارا نبی
اپنے مولٰی کا پیارا ہمارا نبی
دونوں عالم کا دولہا ہمارا نبی
جس کے آنے سے روشن گُلِسْتاں ہوا
نور وحدت کا کیسے نمایاں ہوا
بزمِ عالَم میں کیسا چراغاں ہوا
بزمِ آخر کا شَمَّع فروزاں ہوا
نورِ اول کا جلوہ ہمارا نبی
علتِ حکمِ تکریمِ انساں ہوا
راکبِ اَوجِ افلاکِ امکاں ہوا
شارحِ متنِ اسرارِ عرفاں ہوا
بزمِ آخر کا شَمَّع فروزاں ہوا
نورِ اول کا جلوہ ہمارا نبی
سب سے بالا کا غارِ حرا پر جلوس
جس کا ہوتا ہے خاکِ شفا پر جلوس
جس کو جچتا ہے شمسِ عُلا پر جلوس
جس کو شایاں ہے عرشِ خدا پر جلوس
ہے وہ سلطانِ والا ہمارا نبی
جس کے خادم ہیں کنزِ خدا کے رؤس
جس سے روشن ہیں بزمِ ہُدا کے شموس
جس کا سایہ ہے عرشِ خدا کا عروس
جس کو شایاں ہے عرشِ خدا پر جلوس
ہے وہ سلطانِ والا ہمارا نبی
رہ گئیں جس سے پیچھے سبھی منزِلیں
چھپ گئیں جس کے ہوتے سبھی محفِلیں
بِچھ گئیں جس کے آگے سبھی مخْمَلیں
بجھ گئیں جس کے آگے سبھی مَشْعَلیں
شَمع وہ لے کر آیا ہمارا نبی
جس کی موجوں سے دھلتا ہے داغِ ممات
جس کے نغموں سے پھلتا ہے باغِ ثبات
جس کے جلووں سے ملتا ہے نورِ نجات
جس کے تلووں کا دھوون ہے آبِ حیات
ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی
کیسی کیسی ہوئیں آئینہ بندیاں
ہیں عَجَب دِلْنَشیں آئینہ بندیاں
سب مَلائِک نے کیں آئینہ بندیاں
عرش و کرسی کی تھیں آئینہ بندیاں
سوئے حق جب سدھارا ہمارا نبی
حورو غلمان نے کی تھیں صف بندیاں
انبیا کے لئے بھی تھیں حدبندیاں
ہاں نبی سے گئیں اٹھ یہ پابندیاں
عرش و کرسی کی تھیں آئینہ بندیاں
سوئے حق جب سدھارا ہمارا نبی
جس پہ ہیں ختم حق کے یہ سارے سُبُل
جس سے لرزاں ہوئے سارے اہلِ ہُبُل
چپ رہے جس کے آگے یہ سارے دُہُل
خلق سے اولیا اولیا سے رسل
اور رسولوں سے اعلی ہمارا نبی
ماہ کھاتا ہے جس کی چَمَک کی قسم
مہر کھاتا ہے جس کی دَمَک کی قسم
نور کھاتا ہے جس کی جھلک کی قسم
حُسْن کھاتا ہے جس کے نَمَک کی قسم
وہ ملیحِ دل آرا ہمارا نبی
ذکرِ شہ سے یہ دل کیوں نہ مخمور ہو؟
عشقِ شہ سے یہ دل کیوں نہ معمور ہو؟
یادِ شہ سے یہ دل کیوں نہ مسرور ہو؟
ذکر سب پھیکے جب تک نہ مذکور ہو
نمکین حسن والا ہمارا نبی
جس کے گھر سے ملی ہے خدا کی سبیل
جس کے دم سے خُدا دے شفائے علیل
جس کے صدقے بنی جنَّتی زَنْجَبِیْل
جس کی دو بوند ہیں کوثر و سَلْسَبِیْل
ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی
جیسے عرشِ عُلا ایک ہے ویسے ہی
جیسے لوحِ قضا ایک ہے ویسے ہی
جیسے دینِ ہُدا ایک ہے ویسے ہی
جیسے سب کا خدا ایک ہے ویسے ہی
ان کا ان کا تمہارا ہمارا نبی
نسلوں تلفی اصولوں کی ہوتی رہی
صدیوں بولی غلاموں کی لگتی رہی
پہروں قسمت فقیروں کی روتی رہی
قرنوں بدلی رسُولوں کی ہوتی رہی
چاند بدلی کا نکلا ہمارا نبی
مانگ لو سب یہ کہنے کو منہ چاہیے
یوں سخا عام کرنے کو منہ چاہیے
سب گِرے تھام لینے کو منہ چاہیے
کون دیتا ہے دینے کو، منہ چاہیے
دینے والا ہے سچّا ہمارا نبی
نام ور کیسے کیسے ہوئے ، چھپ گئے
تاجور راج کرتے گئے، چھپ گئے
دہر میں باغ کتنے پھَلے ، چھپ گئے
کیا خبر کتنے تارے کھلے چھپ گئے
پر نہ ڈوبے نہ ڈوبا ہمارا نبی
بزمِ عرفان میں اصفیا راز دار
نوعِ انسان میں اتقیا کام گَار
دَورِ اعیان میں اولیا شان دار
ملکِ کونین میں انبیا تاجدار
تاجداروں کا آقا ہمارا نبی
تا ابد نام بالا ہے جس کا وہ ہے
ہر جگہ ذکرِ والا ہے جس کا وہ ہے
ہر نگر نور پھیلا ہے جس کا وہ ہے
لامکاں تک اجالا ہے جس کا وہ ہے
ہر مکاں کا اجالا ہمارا نبی
ہر مرض کا مداوا سمجھیے جسے
عالمیں کا سہارا سمجھیے جسے
ہر ادا میں نرالا سمجھیے جسے
سارے اچھوں میں اچھا سمجھیے جسے
ہے اس اچھے سے اچھا ہمارا نبی
ہر چمن کا اجالا سمجھیے جسے
سارے شاہوں سے اعلی سمجھیے جسے
ہاں سبھی کا دلارا سمجھیے جسے
سارے اونچوں میں اونچا سمجھیے جسے
ہے اس اونچے سے اونچا ہمارا نبی
سب خلائق سے ہے عرض کیوں دوستو
سب ملائک سے ہے عرض کیوں صاحبو
سب رسل سے کروں عرض کیوں سَرْوَرُو
انبیا سے کروں عرض کیوں مالکو
کیا نبی ہے تمہارا ہمارا نبی
جس سے رشتے ہیں جان و جگر کے وہ ہے
جس سے رتبے بڑھے ہیں بشر کے وہ ہے
جگ میں چرچے ہیں جس کے عمر کے وہ ہے
جس نے ٹکڑے کئے ہیں قمر کے وہ ہے
نورِ وحدت کا ٹکڑا ہمارا نبی
شمسِ رفعت تو اونچوں میں چمکا کیے
نجمِ حکمت تو اچھوں میں چمکا کیے
ماہِ عفت تو نیکوں میں چمکا کیے
سب چمک والے اجلوں میں چمکا کیے
اندھے شیشوں میں چمکا ہمارا نبی
بن گئے جس کے جملے قضائے اَحَد
بن گیا جس کا چاہا رضائے صَمَد
بن گئے جس کے حمزہ خدا کے اَسَد
جس نے مردہ دلوں کو دی عمرِ ابد
ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی
حالِ دل اب سنا ان کو دیجے کہ ہے
ہاتھ سے لے کے اب جام پیجے کہ ہے
آج رضْوی ذرا جھوم لیجے کہ ہے
غمزدوں کو رضا مژدہ دیجے کہ ہے
بے کسوں کا سہارا ہمارا نبی
-----------------------------------
تضمین نگار :ابوالحسنین محمد فضل رسول رضوی
نورِ حمزہ اسلامک کالج کراچی

0
4601