کھوئے ہوئے ہو کیوں یہاں دن میں کہ رات میں
ہوتی ہے جیت اُس کی جو رہتا ثبات میں
پتھر سا بن کے رہ گیا جو مشکلات میں
رکھتا نہیں یقین وہ آسان بات میں
زخموں نے اُس کے دل کو یہ انداز دے دیا
ڈھونڈے نہیں بہار کبھی سانحات میں
مشکل بھی ناگزیر تھا فرقت کا سامنا
کیا کیا نہ ہم نے دیکھا ہے گزری وہ رات میں
جس کو ہوں عمر بھر ہی فقط ٹھوکریں پڑیں
وہ دیر سے یقین کرے التفات میں
چہرے پہ مسکراہٹیں رکھتا ہے آج بھی
لیکن سکون ڈھونڈتا ہے اپنی ذات میں
ارشدؔ وہ آدمی بھی بڑا معتبر لگا
جو ڈٹ گیا تھا وقت کے ان کیفیات میں
مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی

0
2