سنگ بے نیازی گر درمیاں سے مٹ جائے
آدمی سے انساں کا فاصلہ بھی گھٹ جائے
حرف حرف ہستی کا جوڑنا قَرِینے سے
لفظ سے معانی کا رابطہ نہ کٹ جائے
دل میں اک کشادہ سا روزنِ یقیں رکھنا
ممکنات کا سورج تیرگی سے چھٹ جائے
ذات کے سفر میں کوئی مقام آ جائے
چشمِ آگہی سے گر پردۂ گماں ہٹ جائے

0
4