| خوب سے خوب تر سہی رہنے کو دشت بھر سہی |
| درد ملا ہے بارہا درد ہی بیشتر سہی |
| پاس رہے تھے کون لوگ اپنا وجود تھا کہاں |
| یاد اگر کچھ آۓ زیبؔ یاد کی رہ گزر سہی |
| چھوڑ دیا ہے وہ مکاں اور پرندے اڑ گئے |
| رنج! کہ چارہ گر ہوا، خاک! کہ معتبر سہی |
| منظرِ شامِ پرفسوں، سوز میں لپٹی ہوئی شب |
| ان میں بجھی بجھی حیات، موت سے بے خبر سہی |
| نیند خفا ہے عرصے سے، اور گمان میں کہیں |
| سانس ہے سر بہ سر عذاب، سانس ہی سر بہ سر سہی |
| اور تو کچھ نہیں جنوں، اور تو کچھ نہیں گماں |
| حوصلۂِ سفر سہی، سلسلۂِ ضرر سہی |
| نقش و خیالِ جاوداں! سخت فراغتوں میں زیبؔ |
| آس سمیٹتے رہو ، ایک یہی ہنر سہی! |
معلومات