جوانی کو ہی بس سلام ہوتا ہے
بڑھاپا تو بے حِس غُلام ہوتا ہے
جو عمر بھر کسی کے نام ہوتا ہے
وہی تو عشق کا امام ہوتا ہے
وہ شخص توڑے گا انانیت کا بت
نفس کا جو شہِ تمام ہوتا ہے
مقام اِک یہ بھی ہے عمرِ فانی میں
کہ جینا ہی جہاں پہ کام ہوتا ہے
کسی بھی دُوکاں سے ملے گا یہ نہیں
جمؔال عشق تو اِنام ہوتا ہے

0
6