وہ یونیورسٹی آ کر مجھے چڑاتے ہیں
کلاس فیلو جنہیں تیرے خواب آتے ہیں
میں بولتا ہوں تو ہوتی ہے معترض دنیا
رہوں خموش تو الفاظ تللاتے ہیں
یونہی خلاف نہیں واعظانِ شہر کے میں
یہ لوگ مجھ کو محبت نہیں سکھاتے ہیں
کبھی کبھار وہ آتا ہے بر سرِ گلشن
گلاب ایسے میں پھولے نہیں سماتے ہیں
حساب دے گا کوئی ان کی رائیگانی کا
یہ اتنے دن جو ترے بن گزرتے جاتے ہیں
تمہارے ساتھ مری پتھروں سے دشمنی تھی
تمہارے بعد مگر آئنے ستاتے ہیں
مجھے خوشی ہو تو رونے کی ڈھونڈتے ہیں جگہ
اداسی گھیرے تو احباب گیت گاتے ہیں
کسی سے اپنے علاوہ نہ مشورہ کیجے
زیادہ مشورے بھی مسئلے بڑھاتے ہیں
وہ جس کی شہر میں اچھی نہیں قمرؔ شہرت
اسی گلی میں بہت لوگ آتے جاتے ہیں
قمرآسیؔ

3