| شب اندھیروں کی مٹا سکتا میں |
| یاد ماضی کی بھلا سکتا میں |
| دیکھنے کو نہیں باقی کچھ بھی |
| کاش ! دیپک کو بجھا سکتا میں |
| جنکے پیچھے لکھی ہیں تاریخیں |
| خط ، وہ تصویر جلا سکتا میں |
| جوڑ سکتا میں پڑی ہر کرچی |
| چاک پر دل بھی سجا سکتا میں |
| خود پسندی مری عادت ٹھہری |
| ٹھوکریں اور نہیں کھا سکتا میں |
| بھول سکتا میں وہ گزری شامیں |
| بات ہر من کی ، چھپا سکتا میں |
| دل دکھاتے ہیں ستارے ، جگنو |
| اب نہیں وعدہ نبھا سکتا میں |
| سر پٹکتی ہیں ہوائیں در پر |
| کھولنے بھی نہیں آ سکتا میں |
| کتنی دیکھی ہیں بہاریں میں نے |
| رت خزاؤں کی گنا سکتا میں |
| میں محبت ہوں ازل سے ہمدم |
| کاش تجھ میں بھی سما سکتا میں |
| میں تجھے کیسے گنوا دوں شاہد |
| اور نہیں تجھ سا بنا سکتا میں |
معلومات