| حریصِ گل ہے نہ مرہونِ رنگِ منظر ہے |
| خود اپنے زخم کی خوشبو سے دل معطر ہے |
| اب اعتماد وفا لےکے ہم کہاں جائیں |
| جس آستین کو دیکھو اسی میں خنجر ہے |
| شکار ہوں میں غفلت شعار لوگوں کا |
| یہ دکھ تو میرے گزشتہ دکھوں سے بڑھ کر ہے |
| عدو سے پہلے ذرا اپنے روبرو ٹھیرو |
| بلند حوصلہ ہر حال میں سکندر ہے |
| تخلیات کی دنیا سراب ہے شاعر |
| خیال ذندہ رہے تو بشر قلندر ہے |
معلومات