| کچھ جو سرکار کے پَاؤں پہ فدا ہوتے ہیں |
| باقی سب ایسے فداؤں پہ فدا ہوتے ہیں |
| حق نما ہوتی ہیں ایسوں کی ادائیں بے شک |
| جو محمد کی اداؤں پہ فدا ہوتے ہیں |
| جو ہیں عشّاقِ نبی سب کا طریقہ ہے یہ |
| نعت کی پیاری نواؤں پہ فدا ہوتے ہیں |
| دل کی گہرائیوں میں "یا نبی" جو ہم نے کہا |
| ذات کے اجزا نداؤں پہ فدا ہوتے ہیں |
| سانس سے آئے ہیں سینے میں یہ ایمان و سکوں |
| ہم مدینے کی فضاؤں پہ فدا ہوتے ہیں |
| روضہ اقدس سے ہَوا آئی، تو خوشبو لائی |
| امتی ایسی ہواؤں پہ فدا ہوتے ہیں |
| ضامنِ صحتِ دل ہے یہ غمِ عشقِ نبی |
| ایسی ہم ساری دواؤں پہ فدا ہوتے ہیں |
| جو بھی دیتے ہیں نبی سب سے بھلی ہوتی ہیں |
| اس لِیے ساری دعاؤں پہ فدا ہوتے ہیں |
| جس پہ امت ہو فدا اس کو بڑھاتے ہیں نبی |
| بھیک بڑھ جائے عطاؤں پہ فدا ہوتے ہیں |
| خواہشِ دیدِ نبی جب بھی فرشتوں نے سنی |
| ہم فقیروں کی صداؤں پہ فدا ہوتے ہیں |
| بس یہی لوگ مسلمانِ نبی ہوں گے ذکیؔ |
| جو محبت سے وفاؤں پہ فدا ہوتے ہیں |
معلومات