عشقِ نبی کو، دل نے جو، سر پر اٹھا لیا
"قطرہ اٹھا، اور اٹھ کے سمندر اٹھا لیا"
دل عاشقِ نبی ہے تو، وسعت کا کیا کہیں
کُل کائنات، آقا کا، نوکر اٹھا لیا
لال و گُہر سے بڑ کے جو انمول ہے بے شک
ہم نے مدینہ سے حَجَرِ در اٹھا لیا
معراجِ عشق، اس کو بتا کر، وہ رو پڑا
عشقِ نبی کے، غم کو قلندر اُٹھا لیا
دولت نبی کے عشق و حمایت کی ساتھ تھی
حیدر نے ایک ہاتھ میں خیبر اٹھا لیا
دولت نبی کے عشق و حمایت کی ساتھ تھی
حیدر نے ایک ہاتھ میں خیبر اٹھا لیا
محشر ہے، میں نبی کو سنانے کو اے ذکی
نعتوں کا اپنے ساتھ میں دفتر اٹھا لیا

0
2