| میں نبی کی نعت لکھوں پڑھوں، یہی مشغلہ شب و روز ہو |
| میرے دل میں الفت مصطفٰی کا یہ سلسلہ شب و روز ہو |
| میرے رنج و غم کی یہی دوا، میرے ہر الم کی یہی شفا |
| میرے دل میں نعتِ رسول کا یہی ولولہ شب و روز ہو |
| وہ خیال گنبدِ سبز کا، جو نگاہِ شوق میں ہے بسا |
| مجھے دید روضۂ پاک کا، یہی حوصلہ شب و روز ہو |
| مرا لفظ لفظ ہو نعت سے ،میرا حرف حرف ہو آپ سے |
| میرے حق میں رحمت خاص سے ،یہی فیصلہ شب و روز ہو |
| ہے یہ راستہ بڑا پر خطر ، کہ ثنائے سرورِ بحر و بر |
| میرا عشق کہتا ہے پار کر ، یہی مرحلہ شب و روز بو |
| ہو اسی کی مدح ہر ایک پل، جو ہے بے بدل جو ہے بے مثل |
| اے منور اپنے اسی میں حل، سبھی مسئلہ شب و روز ہو |
معلومات