| کاش ہر بات اسے دل کی بتا دیتا میں |
| وقت ملتا اسے دھڑکن تو سنا دیتا میں |
| اس نے کھائی ہے زمانے کے ستم سے ٹھوکر |
| مجھ سے وہ ہاتھ ملاتی تو وفا دیتا میں |
| مجھ سے اک بار تو کہتی کبھی دل کی خواہش |
| عالمِ دہر میں اک حشر اٹھا دیتا میں |
| کب ضرورت تھی مجھے اس کے بدن کی کوئی |
| اس کی ہر زلفِ پریشاں پہ ردا دیتا میں |
| اس کے کہنے پہ کبھی لاتا ہوائیں گھر میں |
| اس کے آنگن میں کبھی دیپ جلا دیتا میں |
| چور ہوتی کبھی دنیا کی بغاوت سے وہ |
| اس کے چہرے کو اسی پل میں ہنسا دیتا میں |
| قید کر لیتا اندھیروں کو قفس میں ساگر |
| اس کی راہوں پہ ستاروں کو بچھا دیتا میں |
معلومات