ایک رنجش ہی ملی اور اُٹھائی میں نے
یعنی جھیلی مرے اپنوں کی جدائی میں نے
اجنبی لوگ تھے ہر سمت کوئی دوست نہ تھا
لگ کے پیڑوں سے گلے عید منائی میں نے
خواہشِ وصل کے پانی سے بھر آئی آنکھیں
حسرتِ دید لیے کال ملائی میں نے
خواب گاہوں سے بہت دور نکل آیا ہوں سو
کوئی تعبیر سنی اور نہ سنائی میں نے
زندگی حق تھا ترا حوصلہ دینا مجھ کو
جس اذیت میں ترے ساتھ نبھائی میں نے
یادِ ہجرت نے کیا قلب کو چھلنی آ بِص
ایک تتلی جو ہتھیلی سے اُڑائی میں نے

0
1