| اب کہاں کوئی پاس ہے رہبر |
| دل مرا بس اداس ہے رہبر |
| ہے کوئی میرا بھی جہاں میں خاص |
| بس مجھے اس کی آس ہے رہبر |
| عشق ہے بے کراں مجھے اس سے |
| دل مِرا فن شناس ہے رہبر |
| میری الفت کا کیوں یقین نہیں!! |
| رب ہی تو اک شناس ہے رہبر |
| ہے بہت خوش وہ چھوڑ کر مجھ کو |
| مجھ کو ہوش و حواس ہے رہبر؟ |
| روٹھ جائے گا مجھ سے رہؔبر وہ |
| دل میں خوف و ہراس ہے رہبر |
معلومات