جان لیتے ہیں ، لہو لیتے ہیں
کچھ شجر ایسے نمو لیتے ہیں
درد دشوار ہے سہنا لیکن
اس سے اک کارٍ رفو لیتے ہیں
دیکھتا کون ہے بہتے آنسو
غم خوشی میں ہی سمو لیتے ہیں
ڈال لیتے ہیں بسیرے سپنے
نام پر تیرا عدو لیتے ہیں
جگ کی تسکینٍ انا کی خاطر
دیکھ مغموم سا ہو لیتے ہیں
تشنگی صحرا کی ہے ہونٹوں پر
ہم بھی ہاتھوں میں سبو لیتے ہیں
ایک پل میں نہ بکھر جائے سب
مل کے تھوڑا کہیں رو لیتے ہیں
کس پہ احسان دھریں گے شاہد
آج مٹی میں ہی سو لیتے ہیں

0
1