یہ جو نفس میں کشمکش جاری ہے
اِسی میں تو انساں کی بیداری ہے
انا کو جلا کر جو روشن ہوا
حقیقت اُسی نور میں ساری ہے
نہ اندر سکوں ہے نہ باہر سکوں
یہ کیسی خلش روح پر بھاری ہے
کبھی دھوپ میں بھی سکوں مل گیا
کبھی سایۂ شب میں بیزاری ہے
جو خود سے نکل کر خدا تک گیا
اُسی کی ہی دنیا میں سرداری ہے
میں تجھ سے تو اِک دن نِپٹ ہی لوں گا
ابھی جنگ خود سے مری جاری ہے
غمِ زندگی ہاتھ تُو ہلکا رکھ
مجھے پہلے سے دل کی بیماری ہے

0
3