ٹوٹے خوابوں کے کچھ نگر دیکھیں
الفتوں کے جو ہم سفر دیکھیں
روز و شب دیکھیں اشک کی بارش
کشت ویراں میں چشم تر دیکھیں
چھوڑ کے زندگی کو قسمت پر
شہر میں تنہا سا بشر دیکھیں
انتہا دیکھیں ہم محبت کی
اجڑی چاہت میں ہر سحر دیکھیں
بہتے دریا کی مستیوں میں ہم
ایک جلتا ہوا شجر دیکھیں
چوک میں دیکھیں گر کوئی ساغر
چاک دامن ، پھٹا جگر دیکھیں
عشق شاید خطا ہے دنیا میں
یار یہ کہتا در بدر دیکھیں
داستاں ہے طویل بھنورے کی
عمر پر گل کی مختصر دیکھیں
کیوں نہ شاہد اداس ہو جگ میں
رہ کٹھن دور اس کا گھر دیکھیں

0
3