مشعلِ حسن شبِ وصل جلائی اس نے
برق جلووں کی مرے دل پہ گرائی اس نے
مہندی ہاتھوں پہ محبت کی رچائی اس نے
رنگینئِ حسن گلالوں سے بڑھائی اس نے
حسن مستور کی بخشی رو نمائی اس نے
دید کا بھر دیا کاسہ ءِ گدائی اس نے
بھیگ کر سرما کی بارش میں لپٹ کر مجھ سے
اک جنوں خیز قیامت تھی اٹھائی اس نے
میرے ہونٹوں پہ جو اظہارِ محبت آیا
میرے ہونٹوں پہ رکھی انگلی حنائی اس نے
چشمِ دلبر سے نظر ٹھہری جو شیریں لب پر
پھر نظر چہرے سے میرے نہ ہٹائی اس نے
ڈھیروں باتوں میں تھی اک بات مسیحائی کی
ہونٹ کانوں کو جو مس کر کے بتائی اس نے
میں نے جب بولا سنو ! چائے میں چینی کم ہے
اپنی انگلی مری چائے میں گھمائی اس نے
میری تصویر جو اک روز کتابوں میں ملی
چوم کر ہونٹوں سے سینے سے لگائی اس نے
سب ہی محفل میں ہوئے مدح سرا اس کے سحاب
جب غزل تیری محبت سے سنائی اس نے

45