| گردشِ چاک سے اتارا ہوں |
| وقت کی دھوپ کا نکھارا ہوں |
| زندہ ہوں میں تری صلیبوں پر |
| لشکری گو کہ ایک ہارا ہوں |
| کانچ کی آنکھیں ، جسم پتھر کا |
| جگ کو ایسا بھی کب گوارا ہوں |
| تھا بھٹکتا ہوا مسافر میں |
| تم مگر کہتے تھے ستارا ہوں |
| میں گیا ڈوب ، ڈھونڈتے خود کو |
| میں سمجھتا تھا ، میں کنارا ہوں |
| بھول جا زندگی ، مجھے تو بھی |
| میں کسی شام کا نظارا ہوں |
| رشتہ شاہد ہے ، ہر ضرورت کا |
| اور ضرورت میں، بس تمہارا ہوں |
معلومات