چُنا ہے خُدا نے تمھیں میرے بھائی
کرو علم سے اپنے روشن خُدائی
نصیحت کو ترسے ہے اُمّتم یہ ساری
مگر چاہیئے اس میں حکمت تمھاری
مسائل زمانے کو درپیش کتنے
تمھیں کرنے ہیں دُور سارے ہی فتنے
بُھلائی نہ جائے گی خدمت تمھاری
تمھارے ہی چرچے زباں پر ہوں جاری
کبھی اپنا مقصد نہ ہر گز بُھلانا
سدا یاد رکھنا وہ وعدہ پُرانا
صِلہ تُم کو دے گا وہ دونوں جہاں میں
مراتب کرے گا عطا وہ جِناں میں
قیامت کے دن جب کرو تُم شفاعت
تو لے جانا زیرکؔ کو تُم ساتھ جنّت

0
1