مضمون سناتا ہے یہ قرآنِ محمد
اللہَ کی پہچان ہے عرفانِ محمد
رب کا ہے جہاں ذکر، وہاں ذکرِ نبی ہے
ایمان کو کافی ہے یہ برہانِ محمد
دیدار محمد کا ہے، دیدار خدا کا
مخلوق میں ہے سب سے بڑی شانِ محمد
آدم جو یہ کہتے ہیں تو ہوتے ہیں بُہَت خوش
ہوں میں مری اولاد فدایانِ محمد
ہم ادنیٰ غلاموں سے ہے آقا کو محبت
احسانِ محمد ہے یہ احسانِ محمد
ہر عاصی کو بخشے گا، وہ محبوب کی خاطر
اللہ نکالے گا یوں ارمانِ محمد
یہ ہے دعا ماں باپ کی مُرشِد کا کرم ہے
میں آج ذکی ہوں جو ثنا خوانِ محمد

0
1