مُیسر مجھے خُوش جمالی ہوئی ہے
مِری آنکھ اُنؐ کی سوالی ہوئی ہے
وہ خضرٰی کا گنبد، وہ روضے کی جالی
یہ تصویر دل نے سنبھالی ہوئی ہے
وہ احساسِ قُربت، وہ اندازِ اُلفت
مجھے دید اُنؐ کی نرالی ہوئی ہے
مِرے اُنؐ کے بیچ، تھا جالی کا پردہ
مِری حاضری بے مثالی ہوئی ہے
مِری رُوح نے اُنؐ کے قدموں کو چوما
یہ رُوح اِس لئے تو وِصالی ہوئی ہے
تَصرف ہے جاری یہ روحِ نبی ؐ کا
کہ نسبت ہماری بلالیؓ ہوئی ہے
ہمیں دید بخشیں یہاں بھی وہاں بھی
یہ عرضی غُلاموں نے ڈالی ہوئی ہے

0
6