جو کبھی  تھا مثلِ گلشن ، وہ ہوا ہے راغ کیسے ؟
گلِ عشق پر اے سامیؔ ! یہ لگا ہے داغ کیسے ؟
وہ جو شمعِ آرزو تھی دلِ شیفتہ میں روشن 
سرِ راہِ کوئے جاناں وہ بجھا چراغ کیسے ؟

0
1