قاتلوں کا کبھی جو سِپَہ بن گیا
امن کا اِک وہ اب فاختہ بن گیا
جو کھڑا ہےحسینی نہ کی طرح اِک
اُس کی ہر بات کا فلسفہ بن گیا
نعرۂ حیدری جب لگایا میں نے
مُشکلوں میں خودی راستہ بن گیا

0
2