کر کرم اے خدا کر کرم اے خدا
سن ہماری صدا سن ہماری صدا
ربِ اکبر ہے تو سب کا ہادی ہے تو
ہر مرادی کے دل کا مرادی ہے تو
نعت لہجے میں میرے ہے صلے علیٰ
لب پہ رہتی ہے تیری ہی حمد و ثنا
اضطرابی میں مانگوں میں تجھ سے دعا
کر کرم اے خدا کر کرم اے خدا
میں ہوں ظلمت کی چادر کو اوڑھے ہوئے
تو ہے ہر دل کو ہر دل سے جوڑے ہوئے
میں ہوں پستی میں ڈوبا تو اعلیٰ خدا
جوشِ رحمت ترا سب پہ جاری ہوا
میں اندھیرا کوئی تو ہے روشن دیا
کر کرم اے خدا کر کرم اے خدا
بن کے شہ رگ میں بہتا ہے تو ہی لہو
سب کے دل کو فقط ہے تری آرزو
سب کی تنہائی کی تو ہی ہے جستحو
دیں کی محفل میں ہوتی تری گفتگو
انبیا اولیا تیرے در کے گدا
کر کرم اے خدا کر کرم اے خدا
مشکلیں ہم پہ راہوں میں دشوار ہیں
بت مجسم یہ کس کے مددگار ہیں
تیری رحمت کے ہم سب طلب گار ہیں
غم سے عاجز ہیں لاغر ہیں بیمار ہیں
صبر ایوب سا کر تو ہم کو عطا
کر کرم اے خدا کر کرم اے خدا
فکرِ گہرائی میں دل پریشان ہے
کون ہے کیا ہے تو عقل حیران ہے
سوچ جائے جہاں جسم بے جان ہے
تو ہے نورِ تجلی تو رحمان ہے
بخش دینا سبھی کو تری شان ہے
عالمِ غیب میں تو ہی ہے حق نما
کر کرم اے خدا کر کرم اےخدا
کشتئ نوح کو بھی کنارہ دیا
بہتی موجوں میں تونے سہارہ دیا
گرم صحرا میں مریم کو چارہ دیا
صدقِ عیسیٰ سے زندہ دوبارہ کیا
حق پرستی میں جینا گوارا کیا
دین و ایماں کا ہم پہ اجارہ کیا
خواہشِ دید موسیٰ کو کی نہ عطا
اور سرِ عرش تو مصطفیٰ سے ملا
حق کی تکمیل تو
دل میں تحلیل تو
ربِ جبریل تو
میری انجیل تو
میرا قرآن تو
علم و عرفان تو
تیری دہلیز پر سر ہے میرا جھکا
کر کرم اے خدا کر کرم اے خدا

0
2