| اُٹھے ہیں مرے ہاتھ لب پر صدا ہے |
| یہی بندگی کی مری انتہا ہے |
| مجھے شمعِ ہدایت بنا دے خدایا |
| جہالت میں رحمت بنا دے خدایا |
| بڑا ہوں تو ان سب کی خدمت کروں میں |
| تو مالک ہے تیری عبادت کروں میں |
| غریبوں کا ہمدرد بن کر رہوں میں |
| ضعیفوں کو تکلیف ہو تو سہوں میں |
| برائی سے بچتا رہوں زندگی بھر |
| ترا نام لیتا رہوں زندگی بھر |
| جہاں میں ترے گیت گاتا رہوں میں |
| ترے دین کے کام آتا رہوں میں |
| اندھیروں میں ہر سمت شمعیں جلاؤں |
| میں لوگوں کو نیکی کا رستہ دکھاؤں |
| مجھے رات دن شکر کرنا سکھا دے |
| جو غم ہو گر تو صبر کرنا سکھا دے |
| بہار وطن ہو مری زندگانی |
| رہوں اس میں جنت کی بن کر نشانی |
| خدایا میں خوابوں کو سچ کر دکھاؤں |
| نئی ایک دنیا زمیں پر بناؤں |
معلومات