| صدیوں سے ہر زباں پہ ثَنائے حسینؑ ہے |
| مومن تو ہر زماں میں فِدائے حسینؑ ہے |
| جنت کے ہر مکاں میں ضِیائے حسینؑ ہے |
| جنت اُسی کی ہے جو گَدائے حسینؑ ہے |
| فرمانِ مصطفٰیؐ ہے کہ مُجھ سے حسینؑ ہیں |
| گویا کہ مصطفٰیؐ میں بِنائے حسینؑ ہے |
| حُبِّ خُدا ملے گی مُحِبِّ حسینؑ سے |
| حُبِّ حسینؑ حُبِّ خُدائے حسینؑ ہے |
| رہتی نہیں ہے کوئی مصیبت بھی رُوبرو |
| مُشکل کُشا علؑی ہیں نِدائے حسینؑ ہے |
| پرچم یزیدیوں کے تہہِ خاک مِل گئے |
| سب سے بُلند و بالا لِوائے حسینؑ ہے |
| عاشق لُٹا رہے ہیں دل و جان بھی مگر |
| سب سے بُلند پایہ وَفائے حسینؑ ہے |
| دیکھا جو حُر کا لاشہ تو مجنوں بھی کہہ اُٹھا |
| عاشق ہے بس وُہی جو فِدائے حسینؑ ہے |
| سب کی ادا نرالی ہے راہِ نیاز میں |
| جس پے خُدا فدا ہے اَدائے حسینؑ ہے |
| آنکھوں سے بہتا پانی سبیلِ حسینؑ ہے |
| دھڑکن بھی دل کی ہائے عَزائے حسینؑ ہے |
| پوچھے اگر خُدا کہ کیا ہے تِری رضا |
| کہہ دوں گا برملا کہ رضائے حسینؑ ہے |
| بَستی بسا گئے ہیں بنامِ علؑی ولی |
| فیضِ مُرادؒ و ماہیؒ عطائے حسینؑ ہے |
| قربانِ پنج تنؑ ہیں، فَنا فِی حسینؑ ہیں |
| ساری مَتاعِ خواجہؒ بَرائے حسینؑ ہے |
| میں ہوں حُسینی اور غُلامِ رسول ہوں |
| میری زباں پہ جاری ثنائے حسینؑ ہے |
معلومات