| میرے دل کی شاخ پہ جاناں عکس تیرا ہی ملتا ہے |
| تیری نگاہِ مست سے دل کا موسم رنگ بدلتا ہے |
| روح کی بنجر گلیوں میں جب یادوں کی کلی کھلتی ہے |
| تیرا ذکر چھڑے تو دل کا درد و الم سنبھلتا ہے |
| وصل کی میٹھی یاد جو آ کر من میں پریت جگاتی ہے |
| ہجر کی کالی راتوں میں جیسے دل کا چراغ سا جَلتا ہے |
| تپتے لب ہیں تشنہ کامی بدن جیسے تپتا صحرا |
| باہر دھوپ کڑی ہے جاناں اندر ساون ڈھلتا ہے |
| گلیوں میں الفت کی اختر کانٹے ہی کانٹے بکھرے ہیں |
| دھیان سے چلنا اس دنیا میں، اکثر پاؤں پھسلتا ہے |
معلومات